بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رواں ہفتے جہاں امریکی شہری تھینکس گیونگ کی تعطیلات کے لیے سفر کی تیاریوں میں مصروف تھے، وائٹ ہاؤس کے قریب واقع ایک میٹرو اسٹیشن پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
الزام ہے کہ افغان شہری جو اپنے گھر واشنگٹن اسٹیٹ سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے وہاں پہنچا تھا، نے نیشنل گارڈ کی ایک خاتون اہلکار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی جبکہ حملہ آور نے ایک مرد گارڈ کو بھی گولی ماری۔ دیگر نیشنل گارڈ اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کرکے رحمٰن اللہ کو زخمی کر دیا۔
نیشنل گارڈ کے اہلکار کئی ہفتوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر واشنگٹن ڈی سی میں تعینات ہیں تاکہ ان حالات کا مقابلہ کیا جاسکے جسے ٹرمپ نے ’جرائم کی ہنگامی صورت حال‘ کا نام دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 29 سالہ رحمٰن اللہ لکانوال 2021ء میں ’آپریشن الائیز ویلکم‘ کے تحت امریکا میں داخل ہوا تھا۔ اسے اُسی سال امریکا میں پناہ دی گئی تھی۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل وہ افغانستان میں سی آئی اے کے ساتھ کام کر چکا تھا۔ تاہم یہ حقیقت ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ کام نہیں آئی جس نے اس حملے کو طالبان کے ظلم سے بھاگ کر آنے والے افغان مہاجرین کے امریکا میں داخلے پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔
حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار ایف بی آئی ڈائریکٹر کیش پٹیل نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن حکومت کے دوران ہزاروں مہاجرین کو امریکا لایا گیا اور انہوں نے اس پورے عمل کی جانچ پڑتال پر سوال اٹھایا۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا آنے والے مہاجرین اور ویزا ہولڈرز سخت اور مکمل جانچ پڑتال سے گزرتے ہیں۔ سیاسی طور پر اس افسوسناک اور المناک واقعے کو ٹرمپ نے اپنے اینٹی امیگرنٹ بیانیے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا ہے جو کہ خراب معاشی کارکردگی پر تنقید کا شکار اس کمزور ہوتی حکومت کے لیے عوامی توجہ ہٹانے کا کام کررہا ہے۔
حملے کے فوراً بعد ٹرمپ نے بیان دیا، ‘ہمیں اب بائیڈن کے دور میں افغانستان سے ہمارے ملک میں داخل ہونے والے ہر ایک غیرملکی کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا اور ہمیں ضروری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کسی بھی ایسے غیرملکی کو چاہے وہ کسی بھی ملک سے ہو، یہاں سے نکالا جا سکے جو یہاں کا نہیں ہے یا ہمارے ملک کو فائدہ نہیں پہنچاتا‘۔ انہوں نے مزید کہا، ’اگر وہ ہمارے ملک سے محبت نہیں کر سکتے تو ہمیں اُن کی یہاں ضرورت نہیں‘۔
اس کے بعد کریک ڈاؤن کا عمل مزید تیز ہوگیا۔ ایکس پر پوسٹ میں امریکی شہریت و امیگریشن سروس (یو ایس سی آئی ایس) نے اعلان کیا کہ، ’افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہے‘۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پروسیسنگ روکنا ممکنہ طور پر تمام افغان شہریوں کو متاثر کرے گا جو امریکا میں رہنے کے لیے پناہ کے طلب گار ہیں یا گرین کارڈ کے ذریعے مستقل قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ اُن افغانوں کو بھی متاثر کرے گی جنہوں نے افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران امریکا کی مدد کی تھی۔ ان میں سے بہت سے لوگ تیسری ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں اور خصوصی امیگرنٹ ویزا پروگرام کے ذریعے اپنی ویزا درخواستوں کی پروسیسنگ کے منتظر ہیں جو کہ ان چند راستوں میں سے ایک ہے جو افغان مہاجرین کے لیے باقی رہ گیا ہے جن سے جنگ میں امریکا کے ساتھ تعاون کے بدلے میں محفوظ پناہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔
جمعرات کو ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا، ‘میں تیسری دنیا کے ممالک سے آنے والی تمام امیگریشن کو مستقل طور پر روک دوں گا تاکہ امریکی نظام مکمل طور پر بحال ہو سکے‘۔
اس انتظامیہ کی طرف سے تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن پہلے دن سے اس کی نمایاں اور خوفناک پالیسی کا مرکزی حصہ رہا ہے۔ یہ حملہ اگرچہ افسوسناک تھا لیکن اُن بے شمار فائرنگ کے واقعات سے مختلف نہیں تھا جو امریکا میں روزانہ پیش آتے ہیں۔ مگر اس واقعے نے انتظامیہ کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ امریکا میں تمام امیگریشن کو روکنے کے لیے ایک اور جواز پیش کرے، خصوصاً وہاں جہاں بات سیاہ فام اور بھورے رنگت والے ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کی ہو۔
اس اعلان سے چند روز قبل ہی یو ایس سی آئی ایس نے حکم دیا تھا کہ امریکا میں موجود ہیٹی کے شہری جنہیں اپنے ملک کی بدامنی کے باعث عارضی حفاظتی اسٹیٹس حاصل تھا، اگلے سال کے اوائل کے بعد اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
افغانوں پر کریک ڈاؤن (اور افواہیں ہیں کہ یہ قدم صومالی مہاجرین تک بھی پھیلایا جائے گا) ٹرمپ کے اُس بڑے وژن کا حصہ ہے جس میں امریکا کو ایک سفید فام اور مسیحی قوم کے طور پر دیکھنے کا تصور شامل ہے۔
ظاہر ہے نقصان اُن افغانوں کا ہوا ہے جنہوں نے امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور یقین کیا کہ اس کے بدلے میں اُن کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔ ایک شخص کا اٹھایا گیا ایک قدم جس کا تعلق لازمی نہیں کہ انتہاپسندی سے ہو بلکہ شاید یہ ذہنی بیماری کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے لیکن اس نے سب کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
جس طرح کبھی نوآبادیاتی طاقتیں کیا کرتی تھیں، بالکل ویسے ہی موجودہ دور کے نوآبادیاتی قوتیں بھی کر رہی ہیں یعنی وہ اپنے وعدے فراموش کررہی ہیں، اُن لوگوں کی قربانیوں کو بے وقعت کررہی ہیں جنہوں نے ان کے لیے جان ہتھیلی پر رکھی جبکہ انہوں نے نئی مہمات کی طرف بڑھتے ہوئے پرانی جنگوں کو فراموش کر دیا۔
یہ بات خاص طور پر اس لیے بھی سچ ہے کہ افغانستان میں طالبان کا دوبارہ اقتدار میں آ جانا امریکا کو مسلسل یاد دلاتا رہتا ہے کہ 20 سالہ جنگ اور کھربوں ڈالرز ضٓئع کردینے کے بعد بھی انہیں کوئی حقیقی فتح حاصل نہ ہو سکی۔
ہزاروں افغان اور دیگر تارکین وطن اب شاید کبھی امریکا نہ پہنچ پائیں۔ صرف ایک لمحے میں اُن کی موجودگی کو بدنما کر دیا گیا ہے، ان پر ’ناپسندیدہ‘ کا لیبل لگا دیا گیا ہے اور اب انہیں ایک بار پھر ایسی دنیا میں اپنے لیے جینے کی راہ تلاش کرنی ہے جو اجنبیوں اور غیر ملکیوں سے نفرت کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: رافعہ ذکریہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ